نئی دہلی، 21؍ اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ نے’ ہنی ٹریپ‘ کیس میں ایک خاتون ملزم کی پیشگی ضمانت اس بنیاد پر مسترد کر دی ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ وہ کسی دوسرے معاملے میں ملوث تھی یانہیں۔جسٹس سبرامنیم پرساد نے کہا کہ خاتون پر سنگین جرم کا الزام لگایا گیا ہے اور اس کے فرار ہونے کا امکان ہے۔درخواست گزار (ملزم خاتون) کے خلاف چارج شیٹ ابھی دائر نہیں کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا صوتی نمونہ لیا جانا ہے اور اس کی بھی تحقیقات کی جانی چاہئے کہ آیا کوئی اور کیس ہے جس میں درخواست گزار ملوث تھی اور جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے۔
درخواست گزار پر تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 328 کے تحت جرم کا الزام ہے جو کہ سنگین جرم ہے۔16 اگست کے اپنے حکم میں جج نے کہا کہ عدالت کا خیال ہے کہ یہ کوئی مناسب کیس نہیں ہے جہاں درخواست گزار کو گرفتاری کی صورت میں ضمانت دی جائے۔ اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔ کیس میں ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ اپنے جاننے والے کے گھر گیا تھا، جہاں اس نے ملزم خاتون کو شکایت کنندہ سے اپنی گرل فرینڈ کے طور پر متعارف کرایا۔
دعویٰ کیا گیا تھا کہ سافٹ ڈرنک پینے کے بعد شکایت کنندہ کو چکر آنا اور بیہوش ہونا شروع ہو گیا۔ ہوش میں آنے پر اس نے ملزم خاتون کوقابل اعتراض حالت میں دیکھا۔ اس کے بعد اس نے شکایت کے مطابق اپنے دوست کو واقعہ کے بارے میں بتایا لیکن دونوں نے اس سے ایک موبائل فون، ایک ٹی وی اور 2 لاکھ روپے نقد کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ خاتون نے دھمکی دی کہ اگر مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو زیادتی کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ بعد ازاں خاتون اور اس کے دوست نے اس شخص کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرایا۔